نجمہ منصور

نجمہ منصور 9 نومبر 1966ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے تاریخ اور ایجو کیشن میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی شاعری کا آغاز کالج کے زمانے سے ہوا اور ان کا پہلا شعری مجموعہ ” سپنے اور آنکھیں‘‘ 1990ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں ’’میں سپنے اور آنکھیں‘‘،’’ تم‘‘، ’’ اگر نظموں کے پر ہوتے ‘‘، ’’ترے دکھ نے رستہ بنا دیا‘‘، ’’برکھا بھیگے خوابوں کی‘‘، ’’ تمہارے اداس ہونے کے دن نہیں‘‘،  ” بہت یاد آنے لگے ہو ‘‘اور ’’محبت کیوں نہیں کرتے“ شامل ہیں۔  نجمہ منصور کا علمی وادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔ ان کی متعدد نثری تصنیفات بھی منظر عام پر آچکی ہیں جن میں ’’رشحات ِقائد‘‘، ’’ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام ‘‘شامل ہیں۔ ان کی ایک کتاب ”اگر نظموں کے پر ہوتے“ کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔